نئی دہلی22؍جولائی(ایس او نیوز؍پی ٹی آئی) جی ایس ٹی کی28ویں بیٹھک ہوئی جس میں کئی اہم اشیاء پر جی ایس ٹی شرحیں گھٹائی گئی ہیں۔ جی ایس ٹی کونسل نے آج بڑا فیصلہ کیاہے جس کے تحت گھریلو استعمال کی اشیاء پر عائد 28فیصد ٹیکس کو گھٹایاگیاہے۔ الیکٹرانیک اشیاء جیسے فرڈج،واشنگ مشین، ٹی وی جیسی اشیاء پر جی ایس ٹی28فیصد سے گھٹاکر18فیصد کیاگیاہے۔ عوام کے لئے بے حد راحت کی خبرہے کہ ان مصنوعات پر جی ایس ٹی گھٹنے سے ان پر لاگو ٹیکس کم ہوگا اور یہ مصنوعات سستی ہوں گی۔ جی ایس ٹی کونسل نے تقریباً100 اشیاء پر جی ایس ٹی کم کیاہے۔ علاوہ ازیں جی ایس ٹی کونسل نے اہم فیصلہ لیاہے کہ سنیٹری نیپکن کو جی ایس ٹی سے باہر کردیا جائے یعنی سنیٹری نیپکن پر جی ایس ٹی کی شرح صفر کردی گئی ہے۔ معلوم ہوکہ اس پر جی ایس ٹی کی شرح پہلے12فیصد تھی جو ہٹاکر صفر بنادی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پینٹ کو بھی28؍فیصد کے سلیب سے ہٹاکر18 فیصد کیاگیاہے۔جس سے گھروں کو رنگ وروغن سے آراستہ کرنے میں عام آدمی کو سہولت ہوگی۔27جولائی سے نئی قیمتیں لاگو ہوں گی۔
درج ذیل اہم اشیاء پر جی ایس ٹی کم
* پتھر، لکڑی اور سنگ مرم سے بنی دیوی، دیوتاؤں کی مورتیوں پر جی ایس ٹی صفرکا فیصلہ کیاگیا۔
* 1000روپئے کے فٹ ویر پر5فیصد جی ایس ٹی لگے گا۔
* پہلے 500روپئے تک کے فٹ ویر پر5فیصد جی ایس ٹی لگتاتھا۔ اس کی حد بڑھائی گئی ہے۔
* فورٹیفائڈ ملک پر جی ایس ٹی شرح صفر ہوگی۔ پینٹ ،ریفریجریٹر،وکیوم کلینر،25انچ تک کے ٹی وی سیٹ کے علاوہ ایک درجن الیکٹرانکس اشیاء پر28سے گھٹاکر18فیصد ٹیکس لگے گا۔
* چینی ملوں کے ذریعہ تیل کمپنیوں کو فروخت کئے جانے والے ایتھنول پر جی ایس ٹی شرح18فیصد سے گھٹاکر5فیصد کی گئی ہے۔ اس سے چینی ملوں کے پاس زیادہ پیسہ بچے گا،جس سے کسانوں کا بقایادیاجاسکے گا۔
کاروباریوں کو راحت: چھوٹے تاجروں کے لئے ریٹرن کی کارروائی میں تبدیلی کی گئی ہے ، جس کے تحت5؍کروڑ روپئے تک ٹرن اوور پر ٹیکس تو ہرمہینہ لگے لگا لیکن ریٹرن3مہینے پر ایک بار دینا ہوگا۔ جی ایس ٹی دینے والے تقریباً93فیصد کاروباریوں کواس سے بڑی راحت ملے گی۔مرکزی وزیر خزانہ پیوش گوئل کی صدارت میں جی ایس ٹی کونسل کا28واں اجلاس ہفتہ کو دہلی کے وگیان بھون میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں شرکت کے بعد دہلی کے نائب وزیراعلیٰ اور وزیر خزانہ منیش سسودیانے میڈیا سے کہا کہ سنیٹری نیپکن کو جی ایس ٹی کے دائرہ سے باہر کردیاگیاہے جس کا خواتین تنظیمیں مسلسل مطالبہ کرتی آرہی تھیں۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی علالت کی وجہ سے وزارت کا عہدہ پیوش گوئل کو تفویض کیاگیاہے۔ گوئل کی صدارت میں جی ایس ٹی کونسل کا یہ پہلا اجلاس تھا۔